Pigeons Breeding

High Flying Pigeons Breeding in Urdu Pakistan

High Flying Pigeons Breeding in Urdu Pakistan

کبوتروں کی فزائش نسل

یہ شعبہ کبوتر پروری میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیوںکہ افزائش نسل یعنی بریڈنگ کے ذریعے ہی کوئی بھی کبوتر پرور پرواز کے لیے اچھے اور معیاری کبوتر حاصل کرسکتا ہے اور اس میں سب سے پہلا مرحلہ ہے جوڑا لگانا۔ اس بارے میں مختلف اساتذہ مختلف آراء رکھتے ہیں مثلا کبوتر پروروں کی اکثریت جوڑا لگانے میں برسوں سے چلے آرہے ایک ہی کلیئےپر لکیر کے فقیر کی مانند عمل کرتے چلے آرہے ہیں کہ جوڑا لگانے کے لیے اگرنر بڑا ہے تو مادی چھوٹی لگائیں اور اگر مادہ بڑی ہے تو نر چھوٹا لگایا جائے اور اس تھیوری پر ہمارے کبوتر پروروں کی اکثریت انحصار کرتی ہے جو کہ میرے نزدیک تی طور پر غلط ہے۔

اسی طرح متعدد اساتذہ کرام اور کبوتر پرور حضرات کی ایک بڑی تعداد سالوں سے اسی بات کا رونا روتی چلی آرہی ہے کہ لوگوں نے کراس ڈال کر کبوتروں کی نسلیں خراب کردی ہیں اور اب وہ کبوتر نہیں رہ گئے جنھیں اصیل کہا جاتا تھا۔ جبکہ میرا نظریہ ان احباب سے قطعی مختلف ہے۔ میرے نزدیک دانشمندی سے کراس دے کر آپ ایک اچھی نسل تیار کر سکتے ہیں جبکہ ایک ہی جوڑے کے بچوں یعنی بھائی بہنوں کو ایک دوسرے سے ہی لگاتے رہیں تو وہ ایک سٹیج پر ان بریڈ کا شکار ہو جائیں گے اور ان کی صلاحیتیں درجہ بدرجہ کم ہوکر خامیوں میں بدلتی جائیں گی۔ جیسے آپ انسانوں میں ہی لے لیں کہ نسل در نسل خاندان میں شادیاں کرنے سے موروثی بیماریاں جڑ پکڑتی ہیں جو کہ ایک اسٹیج پر گونگے ،بہرے پن اور اپاہج یعنی نامکمل بچوں کی صورت میں سامنے آتی ہیں اور اسی لیے ڈاکٹر حضرات خاندان سے باہر شادی پر زور دیتے ہیں۔

 

اپنی نسل اور خون میں دوسرے اچھے خاندان کے خون کو کراس دینے سے نہ صرف موذی بیماریوں سے چھٹکارا ملتا ہے بلکہ ان خاندانوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں بھی مقدر اضافہ ہوتا ہے اور وہ معاشرے میں بہت جلد اپنا مقام بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک اچھی نسل کے کبوتر کو دوسرے اچھی نسل میں کراس دینے سے لازمی طور پر ایک اچھی نسل تیار ہوگی۔ کراس دیتے وقت آپ کونر اور مادہ دونوں کے حسب و نسب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ سارے خوبصورت کبوتر خوب سیرت نہیں ہوتے۔ جب ایک اچھی نسل کا کبوتر اڑان یا سیان میں مالک کی توقع پر پورا نہیں اترتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کچھ خامیاں ہیں اور اچھے کبوتر کی یہ خامیاں دور کرنے کے لیے شوقین حضرات اس میں ایسی مادہ کا کراس دیں گے جو ان کمزوریوں کو دور کر دے گی۔صرف بےتکا کراس دینے سے نسل خراب ہوگی جبکہ سمجھداری سے دیا گیا کراس ہمیشہ ایک اچھی بریڈ کا موجب بنتا ہے۔

  ایک اور قابل غور بات جو بریڈنگ سے متعلق ہے اچھا جوڑوں والا کھڈا وہ کہا جائے گا جہاں بوڑھے جوڑوں کی کمی ہو ۔ اور زیادہ تر جوڑے جو ان خون پر مبنی ہو ں۔ کیونکہ اگر ہم اس میکنذم کو دیکھیں جہاں مادہ تولید اور ایکس سیل بنتے ہیں وہاں مادہ اور نر کے ملاپ سے سیل تقسیم ہوتے ہیں اور ہر ایک جینز کے پیئر کا آدھا آدھا حصہ مل کر مادہ تولید بناتے ہیں۔ جن کے ملنے سے انڈے کی شکل بنتی ہے۔ اگر آپ غور کریں تو پتہ چلتا ہے جوں جوں کبوتر کی عمر بڑھتی جائے گی اس کے سیل بھی کمزور ہوتے جائیں گے اور ان کی قدرتی پائیداری گھٹتی جائے گی جس کے باعث یہ غیر موثر ہوتے جائیں گے گے گے اور اپنی اصل   اس کی مثال آپ انسانوں سے بھی لے سکتے ہیں یعنی جب ہم بوڑھے ہونے لگتے ہیں ہماری کھال پر جھریاں نمودار ہونے لگتی ہیں اور پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ لہذا جب کبوتر بوڑھی عمر میں کبوتری سے انڈے دلواتا ہے تو اس کے جینز اتنے مؤثر نہیں ہوتے کیونکہ کبوتر کے سیلز کمزور ہونے کی وجہ سے اچھا نتیجہ نہیں برآمد ہوتا اور جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ بظاہر اور عمل اپنے ماں باپ سے کم تر ہوتے۔

بریڈنگ میں ایک اہم کنسپٹ مضبوط کمر کے بچے نکلنا ہے۔ میرے دوست کے بقول گزشتہ آٹھ دس سال سے بہت سے چیمپئن حضرات سے ملے اور ان کے چیمپئن کبوتروں کے متعلق انہیں گفتگو کا موقع ملا۔ انہوں نے اکثر یہ بات محسوس کی کہ چیمپئن کبوتروں کی اکثریت عام ایسی شکل وصورت کی مالک ہوتی ہے جن میں اکثریت کی دمیں بہت اچھی نہیں ہوتیں۔ یعنی لمبی اور چوڑی ٹائپ دونوں کہ لیں۔ یہ ایک سائنسی تحقیق ہے کہ لمبی اور خم دار کمر والے کبوتر لمبا عرصہ کے لئے اڑتے ہیں چو نکہ ایسی بناوٹ کی کمروں والے کبوتر مضبوط کمر کے مالک ہوتے ہیں جن کے پٹھے شل نہ ہونے کی وجہ سے بہت کم کریمپ کا شکار ہوتے ہیں مثلا آپ ایک تیراک کو ہی لے لیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دوران تیراکی ایسے بہت سے واقعات رونما ہو چکے ہیں کہ بڑے بڑے مشاق تیراک کا کمر کا پٹھاچڑھ جانے سے ڈوب گئے۔ ایسی کیفیت کو ہی کریمپ کہتے ہیں۔ کبوتر بھی اکثر کریمپ پڑھنے سے چوڑے ہو کر ضائع ہو جاتے ہیں مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ایسی خم دار کمر والے کبوتروں کی ساخت قدرے عام کبوتروں سے مختلف ہوتی ہے۔ اور کمر کی ہڈی کی گولائی کی مطابقت کے حساب سے غور سے دیکھیں تو اس کی دم معمولی حمد ہوگی۔

اسی طرح چھوٹی کمر کے کبوتر سپرنٹر ہوتے ہیں اور ایسے کبوتر دوسروں کی نسبت جلد رواں ہوتے ہیں اور زور مارنے کی وجہ سے کمر میں کریمپ پڑھنے سے دو تین اچھی پروازیں دے کر جلد ضائع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک لمبی اور لچک دار چار کمر رکھنے والے کبوتروں کی دم تھوڑی ہم دار ہوتی ہے اور ایسے کبوتر بہت کم اعصابی یا پٹھے کے تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ جس کے باعث ان کی کارکردگی دیگر کبوتروں سے بہتر ہوتی ہے۔ میرے نزدیک ایسی کمر سمارٹ جسم رکھنے والے کبوتروں میں زیادہ پائی جاتی ہے اور یہ کبوتر کھڈوں میں پڑے ہوئےمیں پڑے ہوئے بھی اپنا جسم اسی طرح برقرار رکھتے ہیں جیسے مقابلے کے لیے تیار کبوتروں کا بدن ہوتا ہے۔ اس طرح کے کبوتر اپنی لچکدار کمر کے باعث کبوتر پروروں میں بے حد مقبولیت حاصل کرتے جا رہےہیں۔

بریڈنگ کے لیے مختلف عوامل سے گزرنا پڑتا ہے اور جو کبوتر پرور کامیابی سے ان مراحل کو طے کرتا ہے وہی ایک کامیاب کبوتر پرور کہلاتا ہے۔ جوڑا بن جانے پر اگر علیحدہ نہ کیا جائے تو یہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ نر اور مادہ جوڑا بننے کے بعد گھونسلا بنا کر انڈے دیتے ہیں اور دونوں باری باری انڈوں پر بیٹھتے ہیں۔ ایک جھولی میں کبوتری دو انڈے دیتی ہے جس میں انیس سے بیس روز بعد بچّے نکل آتے ہیں۔ پیدائش سے دو روز قبل نر اور مادہ کبوتروں کے پوٹے چھوٹے ہونے شروع ہوجاتے ہیں اور ان میں پنیر یا دودھ نما مادہ جسے پیجن ملک کہا جاتا ہے پیدا ہوتا ہے۔ پہلے دو روز اسی دودھ پر بچے زندہ رہتے ہیں۔ تیسرے دن کے بعد آہستہ آہستہ دوسری خوراک یعنی دانہ بھی بچوں کو دینے لگتے ہیں۔ یہ خصوصیات پرندوں میں صرف فاختہ اور کبوتروں میں پائی جاتی ہے۔ پیدائش کے بعد بچوں کا وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے اور پہلے اڑتالیس گھنٹوں میں ان کا وزن دوگنا ہو جاتا ہے۔ سات روز بعد پر نمودار ہونے لگتے ہیں۔ چار ہفتوں میں بچوں کا وزن بالغ کبوتر جتنا ہو جاتا ہے۔ بچے پانچ ہفتوں بعد ماں باپ سے علیحدہ کیئے جاسکتے ہیں۔ پانچ ماہ کی عمر میں کبوتر جوان ہو جاتا ہے بچے تو بعد ماں باپ سے علیحدہ کیے جا سکتے ہیں پانچ ماہ کی عمر میں کو ترجمان ہو جاتا ہے اور کبوتری کے انڈے دلاسکتا ہے۔ عام طور پر بچے کی پہلی کلی6 ہفتے کی عمر میں گرتی ہے جبکہ 6 ماہ کا ہو کر بچہ 10 پر صاف کر کے جوان کبوتر بن جاتا ہے زندگی کی پہلے 6 سال کبوتریاں تیزی سے انڈے دیتی ہیں اور بچے پالتی ہیں۔ بہر حال اس کا زیادہ تر انحصار اچھے اور معیاری خوراک پر بھی ہوتا ہے۔ کبوتر کے جسم کا درجہ حرارت 106 فارن ہائٹس ہوتا ہے۔ کبوترکے دل کی دھڑکن 200 سے 400 ہوتی ہے ہے جو انسانی دل کی دھڑکن سے بہت زیادہ ہے۔ بچہ پیدا ہونے کے لیے انڈے کا درجہ حرارت مسلسل 98 فارن ہائٹس رہنا چاہیے۔ کبوتری کے انڈے سے اٹھ جانے کے بعد اگر چوبیس گھنٹے کے اندر یہ انڈے کسی دوسرے جوڑے کے نیچے رکھ دیئے جائیں تو بچے نکلنے کی کےامکانات ہوتے ہیں مدنظر رکھنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *