Types of pigeons

High Flying Pigeons History in Urdu | Types of pigeons

High Flying Pigeons History in Urdu

Best kabootar baaz information about all types of pigeons in pakistan and kabootar information in Urdu. Apnashoq has brought you the best kabootar information in urdu which will guide for all kabootar baaz friends. Here we are sharing Pigeons History in Urdu with you. But in the coming days we will share with you some pakistani types of pigeons in Urdu which will be as follows. tadi kabootar ،Ali Walay Kabootar ،chohay kabootar ،kamagar kabootar ،bankay kabootar ،Golden kabootar ki Pehchan ،rampuri kabootar ،35 walay kabootar ،golden kabootar ،sialkoti kabootar and qasid kabootar. Apna Shoq is a Pakistani website where complete information about pigeons can be found.

High Flying Pigeons History in Urdu | Types of pigeons

کبوتروں کی تاریخ

تاریخی اعتبار سے انسان اور کبوتر کا واسطہ زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے اور یہ جانور انسانی تہذیب کا ایک مستقل حصہ اور جزء بن چکا ہے یونانی ادب میں کم ازکم پانچ دفعہ تورات میں کبوتر کو پاک جانور بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح انجیل میں کبوتروں کا ذکر کئی جگہ آیا ہے۔ کہتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان تھمنے کے بعد کوے کو زمین کی تلاش کے لیے اڑایا لیکن وہ بے وفا نکلا اور واپس نہ آیا۔

   سوبرس قبل مسیح چنانچہ انہوں نے دوبارہ کبوتر کو چنا جس نے اچھی طرح دیکھ بھال کر کر کے تمام احوال تفصیل سے بیان کیے اور بطور ثبوت اپنی چونچ میں زیتون کی ایک شاخ بھی لایا جس کو تمام بنی نوع انسان اب امن کا نشان تصور کرتے ہیں۔ ایک عرب روایت کے مطابق چونکہ اس وقت تمام زمین گیلی تھی اس لیے اترتے وقت کبوتر کے پاؤں گاڑے میں دھنس گئے اور ان پرآج تک اسی سرخ مٹی کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔

 کبوتر شوق کے علاوہ پیام رسانی کے لیے بھی پرورش کیے جاتے ہیں۔ آج سے دو ہزار برس بیشتر روم کے شہنشاہ چولیس سیزر نے جنگوں میں انہیں بطورقاصد کثرت سے استعمال کیا۔ سلطان نورالدین محمود نے بغداد اور عراق کے دوسرے شہروں کے مابین کبوتروں کے ذریعے ڈاک ارسال کرنے کا ایک باقاعدہ نظام قائم کر رکھا تھا صلیبی جنگوں میں مسلمان کبوتروں کا بطور قاصد بہ کثرت اور موئثر استعمال کرتے رہے۔ بابر بادشاہ اپنی سوانح عمری، تزک بابری میں اس شو کا ذکر خاصے دلچسپ طریقے سے کرتا ہے۔

 

شہنشاہ اکبر تو دیوانگی کی حد تک کبوتروں کا شوقین تھا۔ ابوالفضل لکھتا ہے کہ جب کبھی بادشاہ کسی مہم یا سفر پر روانہ ہوتا تو اپنے کبوتر ساتھ لے کر جاتا۔ ان کی تعداد دو ہزار سے زیادہ تھی۔ اور وہ محسوص پالکیوں میں رکھے جاتے۔

جنہیں مزدور کندھوں پر اٹھا کر چلتے تھے۔ آئین اکبری میں ابو الفضل فضل نے کبوتروں کی مروجہ اقسام، اڑانے کے طریقے، تیاریاں، خوراک اور خرید و فروخت کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہاں تک کہ اچھے کبوتر کی پہچاننے کے لئے جو نقطہ اکبربادشاہ مدنظر رکھتا تھا وہ بھی بیان کیے ہیں۔

شہزادہ سلیم (شہنشاہ جہانگیر) اور نور جہاں کی رومانی زندگی کا آغاز انسانی اور کبوتروں کی تاریخ کا ایک نہایت ہی دلچسپ سنگم بنا۔ جسے ہر سکول کا بچہ دل نشین کر لیتا ہے۔ چاہیے اور کچھ اسے یاد رہے یا نہ رہے۔

موجودہ زمانے کے حکمران کسی سے کم نہیں۔ ملکہ برطانیہ نے یہ شوق ورثے میں پایا اور راقم الحروف کے پاس ان کی نہایت دلکش کبوتر خانوں کی تصاویر موجود ہیں۔ ان سے پہلے ملکہ وکٹوریہ اور میری ملکہ اسکاٹ لینڈ بھی بے حد شوق رکھتی تھیں۔

 

پہلی اور اس کے بعد دوسری جنگ عظیم میں کبوتروں نے نہایت قیمتی اور کارآمد خدمات بعض اوقات بڑی بہادری سے انجام دیں۔ پہلی جنگ عظیم میں دو کبوتروں کو جنہوں نے زخم کھانے کے باوجود انتہائی مشکل حالات میں اہم پیغام منزل مقصود تک پہنچائے۔

یورپ کے کئی شہروں میں کبوتروں کی خدمات تسلیم کرنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے مجسمےنصب کیے گئے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں صرف امریکی فوج میں میں صرف چھیالیس ہزار کبوتر بھرتی کیے گئے۔

جنگ کے علاوہ کبوتروں اور انسانی ادب کا بھی چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ چینی، ایرانی، یونانی اور یورپی شاعروں اور ادیبوں کی نظر میں کبوتروں کا ایک بڑا اہم مقام اور مرتبہ ہے۔ انگریزوں کی مشہور ناول نویس الزبتھ براؤننگ کبوتروں کا بہت شوق رکھتی تھیں۔

ہمارے اپنے علامہ اقبال اس معاملے میں ماہر فن تھے اور جگہ جگہ سے کبوتر اکٹھے کرتے رہے۔ ان کی کبوتر پروری کے متعلق خط و کتابت محفوظ ہے۔ قصہ مختصر یہ کھیل کسی خاص طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانا اور ہر خاص و عام میں مقبول رہا ہے۔ اور اس میں غربت یا کسی قسم کے طبقاتی بندشیں یا تفرقات نہیں ملتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *